سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کر
زندہ ہوں ساعتوں کو میں صدیوں میں ڈھال کر
مالی نے آج کتنی دعائیں وصول کیں
کچھ اک فقیر کی جھولی میں ڈال کر
کل یوم زرد زمانوں کا یوم ہے
شب بھر نہ جاگ مفت میں آنکھیں نہ لال کر
اے گرد باد لوٹ کے آنا ہے پھر مجھے
رکھنا مرے سفر کی اذیت سنبھال کر
محراب میں دیے کی طرح زندگی گزار
منہ زور آندھیوں میں نہ خود کو نڈھال کر
شاید کسی نے بخل زمیں پر کیا ہے طنز
گہرے سمندروں سے جزیرے نکال کر
یہ نقد جاں کہ اس کا لٹانا تو سہل ہے
گر بن پڑے تو اس سے بھی مشکل سوال کر
محسنؔ برہنہ سر چلی آئی ہے شام غم
غربت نہ دیکھ اس پہ ستاروں کی شال کر
Responses
No comments yet. Be the first to respond.