لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جانا
کب خضر و مسیحا نے مرنے کا مزہ جانا
ہم جاہ و حشم یاں کا کیا کہیے کہ کیا جانا
خاتم کو سلیماں کی انگشتر پا جانا
یہ بھی ہے ادا کوئی خورشید نمط پیارے
منہ صبح دکھا جانا پھر شام چھپا جانا
کب بندگی میری سی بندہ کرے گا کوئی
جانے ہے اس کو میں تجھ کو خدا جانا
تھا ناز بہت ہم کو دانست پر اپنی بھی
آخر وہ برا نکلا ہم جس کو بھلا جانا
گردن کشی کیا حاصل مانند بگولے کی
اس دشت میں سر گاڑے جوں سیل چلا جانا
اس گریۂ خونیں کا ہو ضبط تو بہتر ہے
اچھا نہیں چہرے پر لوہو کا بہا جانا
یہ نقش دلوں پر سے جانے کا نہیں اس کو
عاشق کے حقوق آ کر ناحق بھی مٹا جانا
ڈھب دیکھنے کا ایدھر ایسا ہی تمہارا تھا
جاتے تو ہو پر ہم سے ٹک آنکھ ملا جانا
اس شمع کی مجلس میں جانا ہمیں پھر واں سے
اک زخم زباں تازہ ہر روز اٹھا جانا
اے شور قیامت ہم سوتے ہی نہ رہ جاویں
اس سے نکلے تو ہم کو بھی جگا جانا
کیا پانی کے مول آ کر مالک نے گہر بیچا
ہے سخت گراں سستا یوسف کا بکا جانا
ہے میری تری نسبت روح اور جسد کی سی
کب آپ سے میں تجھ کو اے جان جدا جانا
جاتی ہے گزر جی پر اس وقت قیامت سی
یاد آوے ہے جب تیرا یکبارگی آ جانا
برسوں سے مرے اس کی رہتی ہے یہی صحبت
تیغ اس کو اٹھانا تو سر مجھ کو جھکا جانا
کب میرؔ بسر آئے تم ویسے فریبی سے
دل کو تو لگا بیٹھے لیکن نہ لگا جانا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
میرؔ اس غزل کو خوب کہا تھا ضمیر نے
پر اے زباں دراز بہت ہو چکی خموش
شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے
تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے
ایک نبھنے کا نہیں مژگاں تلک بوجھل ہیں سب
کارواں لخت دل ہر اشک کے ہم راہ ہے
ہم جوانوں کو نہ چھوڑا اس سے سب پکڑے گئے
یہ دو سالہ دختر رز کس قدر شتاہ ہے
پا برہنہ خاک سر میں مو پریشاں سینہ چاک
حال میرا دیکھنے آ تیرے ہی دل خواہ ہے
اس جنوں پر میرؔ کوئی بھی پھرے ہے شہر میں
جادۂ صحرا سے کر سازش جو تجھ سے راہ ہے