اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا
چھوڑا وفا کو ان نے مروت کو کیا ہوا
امیدوار وعدۂ دیدار مر چلے
آتے ہی آتے یارو قیامت کو کیا ہوا
کب تک تظلم آہ بھلا کے تئیں
کچھ پیش آیا واقعہ رحمت کو کیا ہوا
اس کے گئے پر ایسے گئے سے ہم نشیں
معلوم بھی ہوا نہ کہ طاقت کو کیا ہوا
بخشش نے مجھ کو ابر کرم کی کیا خجل
اے چشم جوش اشک ندامت کو کیا ہوا
جاتا ہے یار تیغ بکف غیر کی طرف
اے کشتۂ ستم تری غیرت کو کیا ہوا
تھی صعب عاشقی کی بدایت ہی میرؔ پر
کیا جانیے کہ حال نہایت کو کیا ہوا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
میرؔ اس غزل کو خوب کہا تھا ضمیر نے
پر اے زباں دراز بہت ہو چکی خموش
شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے
تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے
ایک نبھنے کا نہیں مژگاں تلک بوجھل ہیں سب
کارواں لخت دل ہر اشک کے ہم راہ ہے
ہم جوانوں کو نہ چھوڑا اس سے سب پکڑے گئے
یہ دو سالہ دختر رز کس قدر شتاہ ہے
پا برہنہ خاک سر میں مو پریشاں سینہ چاک
حال میرا دیکھنے آ تیرے ہی دل خواہ ہے
اس جنوں پر میرؔ کوئی بھی پھرے ہے شہر میں
جادۂ صحرا سے کر سازش جو تجھ سے راہ ہے