ہم آپ ہی کو اپنا مقصود جانتے ہیں
اپنے سوائے کس کو موجود جانتے ہیں
عجز و نیاز اپنا اپنی طرف ہے سارا
اس مشت کو ہم مسجود جانتے ہیں
صورت پذیر ہم بن ہرگز نہیں وے مانے
اہل ہمیں کو معبود جانتے ہیں
عشق ان کی عقل کو ہے جو ماسوا ہمارے
ناچیز جانتے ہیں نا بود جانتے ہیں
اپنی ہی سیر کرنے ہم جلوہ گر ہوئے تھے
اس رمز کو ولیکن معدود جانتے ہیں
یا رب کسے ہے ناقہ ہر غنچہ اس چمن کا
راہ وفا کو ہم تو مسدود جانتے ہیں
یہ ظلم بے نہایت دشوار تر کہ خوباں
بد وضعیوں کو اپنی محمود جانتے ہیں
کیا جانے داب صحبت از خویش رفتگاں کا
مجلس میں شیخ صاحب کچھ کود جانتے ہیں
مر کر بھی ہاتھ آوے تو میرؔ مفت ہے وہ
جی کے زیان کو بھی ہم سود جانتے ہیں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
میرؔ اس غزل کو خوب کہا تھا ضمیر نے
پر اے زباں دراز بہت ہو چکی خموش
شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے
تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے
ایک نبھنے کا نہیں مژگاں تلک بوجھل ہیں سب
کارواں لخت دل ہر اشک کے ہم راہ ہے
ہم جوانوں کو نہ چھوڑا اس سے سب پکڑے گئے
یہ دو سالہ دختر رز کس قدر شتاہ ہے
پا برہنہ خاک سر میں مو پریشاں سینہ چاک
حال میرا دیکھنے آ تیرے ہی دل خواہ ہے
اس جنوں پر میرؔ کوئی بھی پھرے ہے شہر میں
جادۂ صحرا سے کر سازش جو تجھ سے راہ ہے