اب جو اک حسرت جوانی ہے
عمر رفتہ کی یہ نشانی ہے
رشک یوسف ہے آہ وقت عزیز
عمر اک بار کاروانی ہے
گریہ ہر وقت کا نہیں بے ہیچ
دل میں کوئی نہانی ہے
ہم قفس زاد قیدی ہیں ورنہ
تا ایک پرفشانی ہے
اس کی شمشیر تیز ہے ہمدم
مر رہیں گے جو زندگانی ہے
غم و رنج و الم نکو یاں سے
سب تمہاری ہی مہربانی ہے
خاک تھی موجزن جہاں میں اور
ہم کو دھوکا یہ تھا کہ پانی ہے
یاں ہوئے میرؔ تم برابر خاک
واں وہی ناز و سرگرانی ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
میرؔ اس غزل کو خوب کہا تھا ضمیر نے
پر اے زباں دراز بہت ہو چکی خموش
شش جہت سے اس میں ظالم بوئے خوں کی راہ ہے
تیرا کوچہ ہم سے تو کہہ کس کی بسمل گاہ ہے
ایک نبھنے کا نہیں مژگاں تلک بوجھل ہیں سب
کارواں لخت دل ہر اشک کے ہم راہ ہے
ہم جوانوں کو نہ چھوڑا اس سے سب پکڑے گئے
یہ دو سالہ دختر رز کس قدر شتاہ ہے
پا برہنہ خاک سر میں مو پریشاں سینہ چاک
حال میرا دیکھنے آ تیرے ہی دل خواہ ہے
اس جنوں پر میرؔ کوئی بھی پھرے ہے شہر میں
جادۂ صحرا سے کر سازش جو تجھ سے راہ ہے