کیفی اعظمیmatlaآج سوچا تو آنسو بھر آئےمدتیں ہو گئیں مسکرائےہر قدم پر ادھر مڑ کے دیکھاان کی محفل سے ہم اٹھ تو آئےرہ گئی زندگی درد بن کےدرد دل میں چھپائے چھپائےدل کی نازک رگیں ٹوٹتی ہیںیاد اتنا بھی کوئی نہ آئے