وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ
جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ
یہ ترا کامل یہ شباب کا زمانہ
دشمناں سلامت دل دوستاں نشانہ
کبھی حسن کی طبیعت نہ بدل سکا زمانہ
وہی ناز بے نیازی وہی شان خسروانہ
میں ہوں اس مقام پر اب کہ فراق و وصل کیسے
مرا عشق بھی کہانی ترا حسن بھی فسانہ
مری زندگی تو گزری ترے ہجر کے سہارے
مری موت کو بھی پیارے کوئی چاہیئے بہانہ
ترے عشق کی کرامت یہ اگر نہیں تو کیا ہے
کبھی بے ادب نہ گزرا مرے پاس سے زمانہ
تری دوری و حضوری کا یہ ہے عجیب عالم
ابھی زندگی حقیقت ابھی زندگی فسانہ
مرے ہم صفیر بلبل مرا تیرا ساتھ ہی کیا
میں ضمیر دشت و دریا تو اسیر آشیانہ
میں وہ صاف ہی نہ کہہ دوں جو ہے فرق مجھ میں تجھ میں
ترا درد درد تنہا مرا غم غم زمانہ
ترے دل کے ٹوٹنے پر ہے کسی کو ناز کیا کیا
تجھے اے جگرؔ مبارک یہ شکست فاتحانہ
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
ان کا جو فرض ہے وہ اہلِ سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
اک لفظِ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے
سمٹے تو دلِ عاشق پھیلے تو زمانہ ہے
ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
دل کو سکون روح کو آرام آ گیا
موت آ گئی کہ دوست کا پیغام آ گیا
طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہے
مرے حصے کی گویا ہر خوشی کم ہوتی جاتی ہے