سب پہ تو مہربان ہے پیارے
کچھ ہمارا بھی دھیان ہے پیارے
آ کہ تجھ بن بہت دنوں سے یہ
ایک سونا مکان ہے پیارے
تو جہاں ناز سے قدم رکھ دے
وہ زمین آسمان ہے پیارے
مختصر ہے یہ شوق کی روداد
ہر نفس داستان ہے پیارے
اپنے جی میں ذرا تو کر انصاف
کب سے نامہربان ہے پیارے
ٹوٹے ہوئے دلوں کا نہ لے
تو یوں ہی دھان پان ہے پیارے
ہم سے جو ہو سکا سو کر گزرے
اب ترا امتحان ہے پیارے
مجھ میں تجھ میں تو کوئی فرق نہیں
عشق کیوں درمیان ہے پیارے
کیا کہے حال دل غریب جگرؔ
ٹوٹی پھوٹی زبان ہے پیارے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
ان کا جو فرض ہے وہ اہلِ سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
اک لفظِ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے
سمٹے تو دلِ عاشق پھیلے تو زمانہ ہے
ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
دل کو سکون روح کو آرام آ گیا
موت آ گئی کہ دوست کا پیغام آ گیا
طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہے
مرے حصے کی گویا ہر خوشی کم ہوتی جاتی ہے