لاکھوں میں انتخاب کے قابل بنا دیا
جس کو تم نے دیکھ لیا دل بنا دیا
ہر چند کر دیا مجھے برباد نے
لیکن انہیں تو شیفتۂ دل بنا دیا
پہلے کہاں یہ ناز تھے یہ عشوہ و ادا
دل کو دعائیں دو تمہیں قاتل بنا دیا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
ان کا جو فرض ہے وہ اہلِ سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
اک لفظِ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے
سمٹے تو دلِ عاشق پھیلے تو زمانہ ہے
ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
دل کو سکون روح کو آرام آ گیا
موت آ گئی کہ دوست کا پیغام آ گیا
طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہے
مرے حصے کی گویا ہر خوشی کم ہوتی جاتی ہے