کو بے نقاب ہونا تھا
آپ اپنا جواب ہونا تھا
مست جام شراب ہونا تھا
بے خود اضطراب ہونا تھا
تیری آنکھوں کا کچھ قصور نہیں
ہاں مجھی کو خراب ہونا تھا
آؤ مل جاؤ مسکرا کے گلے
ہو چکا جو عتاب ہونا تھا
کوچۂ میں نکل آیا
جس کو خانہ خراب ہونا تھا
مست جام شراب خاک ہوتے
غرق جام شراب ہونا تھا
دل کہ جس پر ہیں نقش رنگارنگ
اس کو سادہ کتاب ہونا تھا
ہم نے ناکامیوں کو ڈھونڈ لیا
آخرش کامیاب ہونا تھا
ہائے وہ لمحۂ سکوں کہ جسے
محشر اضطراب ہونا تھا
نگۂ یار خود تڑپ اٹھتی
شرط اول خراب ہونا تھا
کیوں نہ ہوتا ستم بھی بے پایاں
کرم بے حساب ہونا تھا
کیوں نظر حیرتوں میں ڈوب گئی
موج صد اضطراب ہونا تھا
ہو چکا روز اولیں ہی جگرؔ
جس کو جتنا خراب ہونا تھا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
ان کا جو فرض ہے وہ اہلِ سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے
اک لفظِ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے
سمٹے تو دلِ عاشق پھیلے تو زمانہ ہے
ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
دل کو سکون روح کو آرام آ گیا
موت آ گئی کہ دوست کا پیغام آ گیا
طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہے
مرے حصے کی گویا ہر خوشی کم ہوتی جاتی ہے