یہی حالات ابتدا سے رہے
لوگ ہم سے خفا خفا سے رہے
ان چراغوں میں تیل ہی کم تھا
کیوں گلہ ہم کو پھر ہوا سے رہے
بحث شطرنج شعر موسیقی
تم نہیں تھے تو یہ دلاسے رہے
کی شراب مانگتے ہو
ہم کو دیکھو کہ پی کے پیاسے رہے
اس کے بندوں کو دیکھ کر کہئے
ہم کو امید کیا سے رہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.