وہ زمانہ گزر گیا کب کا
تھا جو مر گیا کب کا
ڈھونڈھتا تھا جو اک نئی دنیا
لوٹ کے اپنے گھر گیا کب کا
وہ جو لایا تھا ہم کو تک
پار اکیلے اتر گیا کب کا
اس کا جو حال ہے وہی جانے
اپنا تو زخم بھر گیا کب کا
خواب در خواب تھا جو شیرازہ
اب کہاں ہے بکھر گیا کب کا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.