سچ یہ ہے بیکار ہمیں ہوتا ہے
جو چاہا تھا دنیا میں کم ہوتا ہے
ڈھلتا سورج پھیلا جنگل رستہ گم
ہم سے پوچھو کیسا عالم ہوتا ہے
غیروں کو کب فرصت ہے دکھ دینے کی
جب ہوتا ہے کوئی ہمدم ہوتا ہے
زخم تو ہم نے ان آنکھوں سے دیکھے ہیں
لوگوں سے سنتے ہیں مرہم ہوتا ہے
کی شاخوں پر اشعار آ جاتے ہیں
جب تیری یادوں کا موسم ہوتا ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.