میں کب سے کتنا ہوں تنہا تجھے پتا بھی نہیں
ترا تو کوئی ہے مرا خدا بھی نہیں
کبھی یہ لگتا ہے اب ختم ہو گیا سب کچھ
کبھی یہ لگتا ہے اب تک تو کچھ ہوا بھی نہیں
کبھی تو بات کی اس نے کبھی رہا خاموش
کبھی تو ہنس کے ملا اور کبھی ملا بھی نہیں
کبھی جو تلخ کلامی تھی وہ بھی ختم ہوئی
کبھی گلہ تھا ہمیں ان سے اب گلہ بھی نہیں
وہ چیخ ابھری بڑی گونجی ڈوب گئی
ہر ایک سنتا تھا لیکن کوئی ہلا بھی نہیں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.