بظاہر کیا ہے جو حاصل نہیں ہے
مگر یہ تو مری نہیں ہے
یہ تودہ ریت کا ہے بیچ
یہ بہہ جائے گا یہ ساحل نہیں ہے
بہت آسان ہے پہچان اس کی
اگر دکھتا نہیں تو دل نہیں ہے
مسافر وہ عجب ہے کارواں میں
کہ جو ہم راہ ہے شامل نہیں ہے
بس اک مقتول ہی مقتول کب ہے
بس اک قاتل ہی تو قاتل نہیں ہے
کبھی تو رات کو تم رات کہہ دو
یہ کام اتنا بھی اب مشکل نہیں ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.