تو بھی چپ ہے میں بھی چپ ہوں یہ کیسی ہے
تیرے ساتھ تری آئی کیا تو سچ مچ آئی ہے
شاید وہ دن پہلا دن تھا پلکیں بوجھل ہونے کا
مجھ کو دیکھتے ہی جب اس کی انگڑائی شرمائی ہے
اس دن پہلی بار ہوا تھا مجھ کو رفاقت کا احساس
جب اس کے ملبوس کی خوشبو گھر پہنچانے آئی ہے
حسن سے عرض شوق نہ کرنا حسن کو زک پہنچانا ہے
ہم نے عرض شوق نہ کر کے حسن کو زک پہنچائی ہے
ہم کو اور تو کچھ نہیں سوجھا البتہ اس کے دل میں
سوز رقابت پیدا کر کے اس کی نیند اڑائی ہے
ہم دونوں مل کر بھی دلوں کی تنہائی میں بھٹکیں گے
پاگل کچھ تو سوچ یہ تو نے کیسی شکل بنائی ہے
عشق پیچاں کی صندل پر جانے کس دن بیل چڑھے
کیاری میں پانی ٹھہرا ہے دیواروں پر کائی ہے
حسن کے جانے کتنے چہرے حسن کے جانے کتنے نام
عشق کا پیشہ حسن پرستی عشق بڑا ہرجائی ہے
آج بہت دن بعد میں اپنے کمرے تک آ نکلا تھا
جوں ہی دروازہ کھولا ہے اس کی خوشبو آئی ہے
ایک تو اتنا حبس ہے پھر میں سانسیں روکے بیٹھا ہوں
ویرانی نے جھاڑو دے کے گھر میں دھول اڑائی ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
بس اک غبار طور گماں کا ہے تہ بہ تہ
یعنی نظر بھی کچھ نہیں منظر بھی کچھ نہیں
ہے اب تو ایک جال سکون ہمیشگی
پرواز کا تو ذکر ہی کیا پر بھی کچھ نہیں
کتنا ڈراؤنا ہے یہ شہر نبود و بود
ایسا ڈراؤنا کہ یہاں ڈر بھی کچھ نہیں
پہلو میں ہے جو میرے کہیں اور ہے وہ شخص
یعنی وفائے عہد کا بستر بھی کچھ نہیں
نسبت میں ان کی جو ہے اذیت وہ ہے مگر
شہ رگ بھی کوئی شے نہیں اور سر بھی کچھ نہیں
یاراں تمہیں جو مجھ سے گلہ ہے تو کس لئے
مجھ کو تو اعتراض خدا پر بھی کچھ نہیں