شرمندگی ہے ہم کو بہت ہم ملے تمہیں
تم سر بہ سر خوشی تھے مگر ملے تمہیں
میں اپنے آپ میں نہ ملا اس کا نہیں
غم تو یہ ہے کہ تم بھی بہت کم ملے تمہیں
ہے جو ہمارا ایک حساب اس حساب سے
آتی ہے ہم کو شرم کہ پیہم ملے تمہیں
تم کو جہان شوق و تمنا میں کیا ملا
ہم بھی ملے تو درہم و برہم ملے تمہیں
اب اپنے طور ہی میں نہیں تم سو کاش کہ
خود میں خود اپنا طور کوئی دم ملے تمہیں
اس شہر حیلہ جو میں جو محرم ملے مجھے
فریاد جان جاں وہی محرم ملے تمہیں
دیتا ہوں تم کو خشکئ مژگاں کی میں دعا
مطلب یہ ہے کہ دامن پر نم ملے تمہیں
میں ان میں آج تک کبھی پایا نہیں گیا
جاناں جو میرے شوق کے عالم ملے تمہیں
تم نے ہمارے دل میں بہت دن سفر کیا
شرمندہ ہیں کہ اس میں بہت خم ملے تمہیں
یوں ہو کہ اور ہی کوئی حوا ملے مجھے
ہو یوں کہ اور ہی کوئی آدم ملے تمہیں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
بس اک غبار طور گماں کا ہے تہ بہ تہ
یعنی نظر بھی کچھ نہیں منظر بھی کچھ نہیں
ہے اب تو ایک جال سکون ہمیشگی
پرواز کا تو ذکر ہی کیا پر بھی کچھ نہیں
کتنا ڈراؤنا ہے یہ شہر نبود و بود
ایسا ڈراؤنا کہ یہاں ڈر بھی کچھ نہیں
پہلو میں ہے جو میرے کہیں اور ہے وہ شخص
یعنی وفائے عہد کا بستر بھی کچھ نہیں
نسبت میں ان کی جو ہے اذیت وہ ہے مگر
شہ رگ بھی کوئی شے نہیں اور سر بھی کچھ نہیں
یاراں تمہیں جو مجھ سے گلہ ہے تو کس لئے
مجھ کو تو اعتراض خدا پر بھی کچھ نہیں