سارے رشتے تباہ کر آیا
برباد اپنے گھر آیا
آخرش خون تھوکنے سے میاں
بات میں تیری کیا اثر آیا
تھا خبر میں زیاں و جاں کا
ہر طرف سے میں بے خبر آیا
اب یہاں ہوش میں کبھی اپنے
نہیں آؤں گا میں اگر آیا
میں رہا عمر بھر جدا خود سے
یاد میں خود کو عمر بھر آیا
وہ جو دل نام کا تھا ایک نفر
آج میں اس سے بھی مکر آیا
مدتوں بعد گھر گیا تھا میں
جاتے ہی میں وہاں سے ڈر آیا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
بس اک غبار طور گماں کا ہے تہ بہ تہ
یعنی نظر بھی کچھ نہیں منظر بھی کچھ نہیں
ہے اب تو ایک جال سکون ہمیشگی
پرواز کا تو ذکر ہی کیا پر بھی کچھ نہیں
کتنا ڈراؤنا ہے یہ شہر نبود و بود
ایسا ڈراؤنا کہ یہاں ڈر بھی کچھ نہیں
پہلو میں ہے جو میرے کہیں اور ہے وہ شخص
یعنی وفائے عہد کا بستر بھی کچھ نہیں
نسبت میں ان کی جو ہے اذیت وہ ہے مگر
شہ رگ بھی کوئی شے نہیں اور سر بھی کچھ نہیں
یاراں تمہیں جو مجھ سے گلہ ہے تو کس لئے
مجھ کو تو اعتراض خدا پر بھی کچھ نہیں