جو ہوا جونؔ وہ ہوا بھی نہیں
یعنی جو کچھ بھی تھا وہ تھا بھی نہیں
بس گیا جب وہ شہر میں مرے
پھر میں اس شہر میں رہا بھی نہیں
اک عجب طور حال ہے کہ جو ہے
یعنی میں بھی نہیں بھی نہیں
لمحوں سے اب معاملہ کیا ہو
دل پہ اب کچھ گزر رہا بھی نہیں
جانیے میں چلا گیا ہوں کہاں
میں تو خود سے کہیں گیا بھی نہیں
تو مرے دل میں آن کے بس جا
اور تو میرے پاس آ بھی نہیں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
بس اک غبار طور گماں کا ہے تہ بہ تہ
یعنی نظر بھی کچھ نہیں منظر بھی کچھ نہیں
ہے اب تو ایک جال سکون ہمیشگی
پرواز کا تو ذکر ہی کیا پر بھی کچھ نہیں
کتنا ڈراؤنا ہے یہ شہر نبود و بود
ایسا ڈراؤنا کہ یہاں ڈر بھی کچھ نہیں
پہلو میں ہے جو میرے کہیں اور ہے وہ شخص
یعنی وفائے عہد کا بستر بھی کچھ نہیں
نسبت میں ان کی جو ہے اذیت وہ ہے مگر
شہ رگ بھی کوئی شے نہیں اور سر بھی کچھ نہیں
یاراں تمہیں جو مجھ سے گلہ ہے تو کس لئے
مجھ کو تو اعتراض خدا پر بھی کچھ نہیں