ایذا دہی کی داد جو پاتا رہا ہوں میں
ہر ناز آفریں کو ستاتا رہا ہوں میں
اے خوش خرام پاؤں کے چھالے تو گن ذرا
تجھ کو کہاں کہاں نہ پھراتا رہا ہوں میں
اک بے مثال کی تمثیل کے لیے
پرچھائیوں پہ رنگ گراتا رہا ہوں میں
کیا مل گیا ضمیر ہنر بیچ کر مجھے
اتنا کہ صرف کام چلاتا رہا ہوں میں
روحوں کے پردہ پوش گناہوں سے بے خبر
جسموں کی نیکیاں ہی گناتا رہا ہوں میں
تجھ کو خبر نہیں کہ ترا کرب دیکھ کر
اکثر ترا مذاق اڑاتا رہا ہوں میں
شاید مجھے کسی سے محبت نہیں ہوئی
لیکن یقین سب کو دلاتا رہا ہوں میں
اک سطر بھی کبھی نہ لکھی میں نے تیرے نام
پاگل تجھی کو بھی آتا رہا ہوں میں
جس دن سے اعتماد میں آیا ترا شباب
اس دن سے تجھ پہ ظلم ہی ڈھاتا رہا ہوں میں
اپنا مثالیہ مجھے اب تک نہ مل سکا
ذروں کو آفتاب بناتا رہا ہوں میں
بیدار کر کے تیرے بدن کی خود آگہی
تیرے بدن کی عمر گھٹاتا رہا ہوں میں
کل دوپہر عجیب سی اک بے دلی رہی
بس تیلیاں جلا کے بجھاتا رہا ہوں میں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
بس اک غبار طور گماں کا ہے تہ بہ تہ
یعنی نظر بھی کچھ نہیں منظر بھی کچھ نہیں
ہے اب تو ایک جال سکون ہمیشگی
پرواز کا تو ذکر ہی کیا پر بھی کچھ نہیں
کتنا ڈراؤنا ہے یہ شہر نبود و بود
ایسا ڈراؤنا کہ یہاں ڈر بھی کچھ نہیں
پہلو میں ہے جو میرے کہیں اور ہے وہ شخص
یعنی وفائے عہد کا بستر بھی کچھ نہیں
نسبت میں ان کی جو ہے اذیت وہ ہے مگر
شہ رگ بھی کوئی شے نہیں اور سر بھی کچھ نہیں
یاراں تمہیں جو مجھ سے گلہ ہے تو کس لئے
مجھ کو تو اعتراض خدا پر بھی کچھ نہیں