چلو باد بہاری جا رہی ہے
پیا جی کی سواری جا رہی ہے
شمال جاودان سبز جاں سے
تمنا کی عماری جا رہی ہے
فغاں اے دشمن دار و جاں
مری حالت سدھاری جا رہی ہے
ہے پہلو میں ٹکے کی اک حسینہ
تری فرقت گزاری جا رہی ہے
جو ان روزوں مرا ہے وہ یہ ہے
کہ غم سے بردباری جا رہی ہے
ہے سینے میں عجب اک حشر برپا
کہ دل سے بے قراری جا رہی ہے
میں پیہم ہار کر یہ سوچتا ہوں
وہ کیا شے ہے جو ہاری جا رہی ہے
دل اس کے رو بہ رو ہے اور گم صم
کوئی عرضی گزاری جا رہی ہے
وہ سید بچہ ہو اور شیخ کے ساتھ
میاں عزت ہماری جا رہی ہے
ہے برپا ہر گلی میں شور نغمہ
مری فریاد ماری جا رہی ہے
وہ یاد اب ہو رہی ہے دل سے رخصت
میاں پیاروں کی پیاری جا رہی ہے
دریغا تیری نزدیکی میاں جان
تری دوری پہ واری جا رہی ہے
بہت بد حال ہیں بستی ترے لوگ
تو پھر تو کیوں سنواری جا رہی ہے
تری مرہم نگاہی اے مسیحا
خراش دل پہ واری جا رہی ہے
خرابے میں عجب تھا شور برپا
دلوں سے انتظاری جا رہی ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
بس اک غبار طور گماں کا ہے تہ بہ تہ
یعنی نظر بھی کچھ نہیں منظر بھی کچھ نہیں
ہے اب تو ایک جال سکون ہمیشگی
پرواز کا تو ذکر ہی کیا پر بھی کچھ نہیں
کتنا ڈراؤنا ہے یہ شہر نبود و بود
ایسا ڈراؤنا کہ یہاں ڈر بھی کچھ نہیں
پہلو میں ہے جو میرے کہیں اور ہے وہ شخص
یعنی وفائے عہد کا بستر بھی کچھ نہیں
نسبت میں ان کی جو ہے اذیت وہ ہے مگر
شہ رگ بھی کوئی شے نہیں اور سر بھی کچھ نہیں
یاراں تمہیں جو مجھ سے گلہ ہے تو کس لئے
مجھ کو تو اعتراض خدا پر بھی کچھ نہیں