اے صبح میں اب کہاں رہا ہوں
خوابوں ہی میں صرف ہو چکا ہوں
سب میرے بغیر مطمئن ہوں
میں سب کے بغیر جی رہا ہوں
کیا ہے جو بدل گئی ہے دنیا
میں بھی تو بہت بدل گیا ہوں
گو اپنے ہزار نام رکھ لوں
پر اپنے سوا میں اور کیا ہوں
میں جرم کا اعتراف کر کے
کچھ اور ہے جو چھپا گیا ہوں
میں اور فقط اسی کی خواہش
اخلاق میں جھوٹ بولتا ہوں
اک شخص جو مجھ سے وقت لے کر
آج آ نہ سکا تو خوش ہوا ہوں
ہر شخص سے بے نیاز ہو جا
پھر سب سے یہ کہہ کہ میں ہوں
چرکے تو تجھے دیے ہیں میں نے
پر خون بھی میں ہی تھوکتا ہوں
رویا ہوں تو اپنے دوستوں میں
پر تجھ سے تو ہنس کے ہی ملا ہوں
اے شخص میں تیری جستجو سے
بیزار نہیں ہوں تھک گیا ہوں
میں شمع کا نغمہ گر تھا
اب تھک کے کراہنے لگا ہوں
کل پر ہی رکھو وفا کی باتیں
میں آج بہت بوجھا ہوا ہوں
کوئی بھی نہیں ہے مجھ سے نادم
بس طے یہ ہوا کہ میں برا ہوں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
بس اک غبار طور گماں کا ہے تہ بہ تہ
یعنی نظر بھی کچھ نہیں منظر بھی کچھ نہیں
ہے اب تو ایک جال سکون ہمیشگی
پرواز کا تو ذکر ہی کیا پر بھی کچھ نہیں
کتنا ڈراؤنا ہے یہ شہر نبود و بود
ایسا ڈراؤنا کہ یہاں ڈر بھی کچھ نہیں
پہلو میں ہے جو میرے کہیں اور ہے وہ شخص
یعنی وفائے عہد کا بستر بھی کچھ نہیں
نسبت میں ان کی جو ہے اذیت وہ ہے مگر
شہ رگ بھی کوئی شے نہیں اور سر بھی کچھ نہیں
یاراں تمہیں جو مجھ سے گلہ ہے تو کس لئے
مجھ کو تو اعتراض خدا پر بھی کچھ نہیں