ذرا سی بات پہ ہر رسم توڑ آیا تھا
تباہ نے بھی کیا مزاج پایا تھا
گزر گیا ہے کوئی لمحۂ شرر کی طرح
ابھی تو میں اسے پہچان بھی نہ پایا تھا
معاف کر نہ سکی میری مجھ کو
وہ ایک لمحہ کہ میں تجھ سے تنگ آیا تھا
شگفتہ پھول سمٹ کر کلی بنے جیسے
کچھ اس کمال سے تو نے بدن چرایا تھا
پتا نہیں کہ مرے بعد ان پہ کیا گزری
میں چند خواب زمانے میں چھوڑ آیا تھا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.