سو بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گی
تم آئے تو اس کی اوقات بنے گی
ان سے یہی کہہ آئیں کہ اب ہم نہ ملیں گے
آخر کوئی تقریب ملاقات بنے گی
اے ناوک غم دل میں ہے اک بوند لہو کی
کچھ اور تو کیا ہم سے مدارات بنے گی
یہ ہم سے نہ ہوگا کہ کسی ایک کو چاہیں
اے عشق ہماری نہ ترے سات بنے گی
یہ کیا ہے کہ بڑھتے چلو بڑھتے چلو آگے
جب بیٹھ کے سوچیں گے تو کچھ بات بنے گی
Responses
No comments yet. Be the first to respond.