بھلا بھی دے اسے جو بات ہو گئی پیارے
نئے چراغ جلا ہو گئی پیارے
تری پشیماں کو کیسے دیکھوں گا
کبھی جو تجھ سے ملاقات ہو گئی پیارے
نہ تیری یاد نہ دنیا کا غم نہ اپنا خیال
عجیب صورت حالات ہو گئی پیارے
اداس اداس ہیں شمعیں بجھے بجھے ساغر
یہ کیسی شام خرابات ہو گئی پیارے
وفا کا نام نہ لے گا کوئی زمانے میں
ہم اہل دل کو اگر مات ہو گئی پیارے
تمہیں تو ناز بہت دوستوں پہ تھا جالبؔ
الگ تھلگ سے ہو کیا بات ہو گئی پیارے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.