بہت روشن ہے شام ہماری
کسی کی ہے ہم دم ہماری
غلط ہے لا تعلق ہیں چمن سے
تمہارے پھول اور شبنم ہماری
یہ پلکوں پر نئے آنسو نہیں ہیں
ازل سے آنکھ ہے پر نم ہماری
ہر اک لب پر تبسم دیکھنے کی
تمنا کب ہوئی ہے کم ہماری
کہی ہے ہم نے خود سے بھی بہت کم
نہ پوچھو داستان غم ہماری
Responses
No comments yet. Be the first to respond.