شام سے آج سانس بھاری ہے
بے قراری سی بے قراری ہے
آپ کے بعد ہر گھڑی ہم نے
آپ کے ساتھ ہی گزاری ہے
کو دے دو چاندنی کی ردا
دن کی چادر ابھی اتاری ہے
شاخ پر کوئی قہقہہ تو کھلے
کیسی چپ سی میں طاری ہے
کل کا ہر واقعہ تمہارا تھا
آج کی داستاں ہماری ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.