رکے رکے سے قدم رک کے بار بار چلے
قرار دے کے ترے در سے بے قرار چلے
اٹھائے پھرتے تھے احسان جسم کا جاں پر
چلے جہاں سے تو یہ پیرہن اتار چلے
نہ جانے کون سی مٹی وطن کی مٹی تھی
میں دھول جگر میں لیے غبار چلے
نہ آئی کئی بار نیند سے جاگے
تھی رات رات کی یہ زندگی گزار چلے
ملی ہے شمع سے یہ رسم عاشقی ہم کو
گناہ ہاتھ پہ لے کر گناہ گار چلے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.