پھولوں کی طرح لب کھول کبھی
کی زباں میں بول کبھی
الفاظ پرکھتا رہتا ہے
آواز ہماری تول کبھی
انمول نہیں لیکن پھر بھی
پوچھ تو مفت کا مول کبھی
کھڑکی میں کٹی ہیں سب راتیں
کچھ چورس تھیں کچھ گول کبھی
یہ بھی دوست زمیں کی طرح
ہو جاتا ہے ڈانوا ڈول کبھی
Responses
No comments yet. Be the first to respond.