کوئی خاموش زخم لگتی ہے
ایک نظم لگتی ہے
بزم یاراں میں رہتا ہوں تنہا
اور تنہائی بزم لگتی ہے
اپنے سائے پہ پاؤں رکھتا ہوں
چھاؤں چھالوں کو نرم لگتی ہے
کی نبض دیکھنا اٹھ کر
رات کی سانس گرم لگتی ہے
یہ روایت کہ درد مہکے رہیں
دل کی دیرینہ رسم لگتی ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.