کوئی اٹکا ہوا ہے پل شاید
وقت میں پڑ گیا ہے بل شاید
لب پہ آئی مری غزل شاید
وہ اکیلے ہیں آج کل شاید
دل اگر ہے تو بھی ہوگا
اس کا کوئی نہیں ہے حل شاید
جانتے ہیں ثواب رحم و کرم
ان سے ہوتا نہیں عمل شاید
آ رہی ہے جو چاپ قدموں کی
کھل رہے ہیں کہیں کنول شاید
راکھ کو بھی کرید کر دیکھو
ابھی جلتا ہو کوئی پل شاید
ڈوبے تو چاند ہی نکلے
آپ کے پاس ہوگا حل شاید
Responses
No comments yet. Be the first to respond.