کہیں تو گرد اڑے یا کہیں دکھے
کہیں سے آتا ہوا کوئی شہسوار دکھے
خفا تھی شاخ سے شاید کہ جب ہوا گزری
زمیں پہ گرتے ہوئے بے شمار دکھے
رواں ہیں پھر بھی رکے ہیں وہیں پہ صدیوں سے
بڑے اداس لگے جب بھی آبشار دکھے
کبھی تو چونک کے دیکھے کوئی ہماری طرف
کسی کی آنکھ میں ہم کو بھی انتظار دکھے
کوئی طلسمی صفت تھی جو اس ہجوم میں وہ
ہوئے جو آنکھ سے اوجھل تو بار بار دکھے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.