بیتے رشتے تلاش کرتی ہے
غنچے تلاش کرتی ہے
جب گزرتی ہے اس گلی سے صبا
خط کے پرزے تلاش کرتی ہے
اپنے ماضی کی جستجو میں
پیلے پتے تلاش کرتی ہے
ایک امید بار بار آ کر
اپنے ٹکڑے تلاش کرتی ہے
بوڑھی پگڈنڈی شہر تک آ کر
اپنے بیٹے تلاش کرتی ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.