وقت غروب آج کرامات ہو گئی
زلفوں کو اس نے کھول دیا ہو گئی
کل تک تو اس میں ایسی کرامت نہ تھی کوئی
وہ آنکھ آج قبلۂ حاجات ہو گئی
اے سوز تو نے مجھے کیا بنا دیا
میری ہر ایک سانس مناجات ہو گئی
اوچھی نگاہ ڈال کے اک سمت رکھ دیا
دل کیا دیا غریب کی سوغات ہو گئی
کچھ یاد آ گئی تھی وہ زلف شکن شکن
ہستی تمام چشمۂ ظلمات ہو گئی
اہل وطن سے دور جدائی میں یار کی
صبر آ گیا فراقؔ کرامات ہو گئی
Responses
No comments yet. Be the first to respond.