سے وصال مانگتی ہوں
میں آدمیوں سے کٹ گئی ہوں
شاید پاؤں سراغ الفت
مٹھی میں بھر رہی ہوں
ہر لمس ہے جب تپش سے عاری
کس آنچ سے یوں پگھل رہی ہوں
وہ خواہش بوسہ بھی نہیں اب
حیرت سے ہونٹ کاٹتی ہوں
اک طفلک جستجو ہوں شاید
میں اپنے بدن سے کھیلتی ہوں
اب طبع کسی پہ کیوں ہو راغب
انسانوں کو برت چکی ہوں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.