جو مجھ میں چھپا میرا گلا گھونٹ رہا ہے
یا وہ کوئی ابلیس ہے یا میرا ہے
جب سر میں نہیں تو چہرے پہ چمک ہے
یہ نخل خزاں آئی تو شاداب ہوا ہے
کیا میرا زیاں ہے جو مقابل ترے آ جاؤں
یہ امر تو معلوم کہ تو مجھ سے بڑا ہے
میں بندہ و ناچار کہ سیراب نہ ہو پاؤں
اے ظاہر و موجود مرا جسم دعا ہے
ہاں اس کے تعاقب سے مرے دل میں ہے انکار
وہ شخص کسی کو نہ ملے گا نہ ملا ہے
کیوں نور ابد دل میں گزر کر نہیں پاتا
سینے کی سیاہی سے نیا حرف لکھا ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.