ضد ہے انہیں پورا مرا ارماں نہ کریں گے
منہ سے جو نہیں نکلی ہے اب ہاں نہ کریں گے
کیوں زلف کا بوسہ مجھے لینے نہیں دیتے
کہتے ہیں کہ واللہ پریشاں نہ کریں گے
ہے میں اک بات تمہارے متعلق
خلوت میں جو پوچھو گے تو پنہاں نہ کریں گے
واعظ تو بناتے ہیں مسلمان کو کافر
افسوس یہ کافر کو مسلماں نہ کریں گے
کیوں شکر گزاری کا مجھے شوق ہے اتنا
سنتا ہوں وہ مجھ پر کوئی احساں نہ کریں گے
نہ سمجھے ہمیں وہ سمجھے شرابی
اب چاک کبھی جیب و گریباں نہ کریں گے
وہ جانتے ہیں غیر مرے گھر میں ہے مہماں
آئیں گے تو مجھ پر کوئی احساں نہ کریں گے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں ڈالا چوری تو نہیں کی ہے
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
رہے گا عشقِ بت میں فرق دنیا سے دینی کا
اگر یہ سجدہ ہے کعبے کا وہ سجدہ ہے کچھ اور
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے
یہ زندہ جاوید ہے وہ مردہ زبان نہیں