امید ٹوٹی ہوئی ہے میری جو مرا تھا وہ مر چکا ہے
جو زندگانی کو تلخ کر دے وہ وقت مجھ پر گزر چکا ہے
اگرچہ سینے میں سانس بھی ہے نہیں طبیعت میں جان باقی
اجل کو ہے دیر اک کی فلک تو کام اپنا کر چکا ہے
غریب خانے کی یہ اداسی یہ نا درستی نہیں قدیمی
چہل پہل بھی کبھی یہاں تھی کبھی یہ گھر بھی سنور چکا ہے
یہ سینہ جس میں یہ داغ میں اب مسرتوں کا کبھی تھا مخزن
وہ دل جو ارمان سے بھرا تھا خوشی سے اس میں ٹھہر چکا ہے
غریب اکبر کے گرد کیوں میں خیال واعظ سے کوئی کہہ دے
اسے ڈراتے ہو موت سے کیا وہ زندگی ہی سے ڈر چکا ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں ڈالا چوری تو نہیں کی ہے
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
رہے گا عشقِ بت میں فرق دنیا سے دینی کا
اگر یہ سجدہ ہے کعبے کا وہ سجدہ ہے کچھ اور
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے
یہ زندہ جاوید ہے وہ مردہ زبان نہیں