سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں
یہ نہ سمجھیں کہ آہ کرتا ہوں
بحر ہستی میں ہوں مثال حباب
مٹ ہی جاتا ہوں جب ابھرتا ہوں
اتنی آزادی بھی غنیمت ہے
سانس لیتا ہوں بات کرتا ہوں
شیخ صاحب سے ڈرتے ہوں
میں تو انگریزوں ہی سے ڈرتا ہوں
آپ کیا پوچھتے ہیں میرا مزاج
شکر اللہ کا ہے مرتا ہوں
یہ بڑا عیب مجھ میں ہے اکبرؔ
میں جو آئے کہہ گزرتا ہوں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں ڈالا چوری تو نہیں کی ہے
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
رہے گا عشقِ بت میں فرق دنیا سے دینی کا
اگر یہ سجدہ ہے کعبے کا وہ سجدہ ہے کچھ اور
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے
یہ زندہ جاوید ہے وہ مردہ زبان نہیں