پھر گئی آپ کی دو دن میں طبیعت کیسی
یہ وفا کیسی تھی صاحب یہ مروت کیسی
دوست احباب سے ہنس بول کے کٹ جائے گی
رند آزاد ہیں ہم کو فرقت کیسی
جس حسیں سے ہوئی الفت وہی معشوق اپنا
عشق کس چیز کو کہتے ہیں طبیعت کیسی
ہے جو قسمت میں وہی ہوگا نہ کچھ کم نہ سوا
آرزو کہتے ہیں کس چیز کو حسرت کیسی
حال کھلتا نہیں کچھ دل کے دھڑکنے کا مجھے
آج رہ رہ کے بھر آتی ہے طبیعت کیسی
کوچۂ یار میں جاتا تو نظارہ کرتا
قیس آوارہ ہے جنگل میں یہ وحشت کیسی
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں ڈالا چوری تو نہیں کی ہے
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
رہے گا عشقِ بت میں فرق دنیا سے دینی کا
اگر یہ سجدہ ہے کعبے کا وہ سجدہ ہے کچھ اور
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے
یہ زندہ جاوید ہے وہ مردہ زبان نہیں