نہ روح مذہب نہ قلب عارف نہ شاعرانہ باقی
زمیں ہماری بدل گئی ہے اگرچہ ہے آسمان باقی
گزشتہ کے ساز و ساماں کے اب کہاں ہیں نشان باقی
زبان شمع سحر پہ حسرت کی رہ گئی داستان باقی
جو ذکر آتا ہے آخرت کا تو آپ ہوتے ہیں صاف منکر
خدا کی نسبت بھی دیکھتا ہوں یقین رخصت گمان باقی
فضول ہے ان کی بد دماغی کہاں ہے فریاد اب لبوں پر
یہ وار پر وار اب عبث ہیں کہاں بدن میں ہے جان باقی
میں اپنے مٹنے کے غم میں نالاں ادھر زمانہ ہے شاد و خنداں
اشارہ کرتی ہے چشم دوراں جو آن باقی جہان باقی
اسی لیے رہ گئی ہیں آنکھیں کہ میرے مٹنے کا رنگ دیکھیں
سنوں وہ باتیں جو ہوش اڑائیں اسی لیے ہیں یہ کان باقی
تعجب آتا ہے طفل دل پر کہ ہو گیا مست نظم اکبرؔ
ابھی مڈل پاس تک نہیں ہے بہت سے ہیں امتحان باقی
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں ڈالا چوری تو نہیں کی ہے
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
رہے گا عشقِ بت میں فرق دنیا سے دینی کا
اگر یہ سجدہ ہے کعبے کا وہ سجدہ ہے کچھ اور
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے
یہ زندہ جاوید ہے وہ مردہ زبان نہیں