معنی کو بھلا دیتی ہے صورت ہے تو یہ ہے
نیچر بھی سبق سیکھ لے زینت ہے تو یہ ہے
کمرے میں جو ہنستی ہوئی آئی مس رعنا
ٹیچر نے کہا علم کی آفت ہے تو یہ ہے
یہ بات تو اچھی ہے کہ ہو مسوں سے
حور ان کو سمجھتے ہیں قیامت ہے تو یہ ہے
پیچیدہ مسائل کے لیے جاتے ہیں انگلینڈ
زلفوں میں الجھ آتے ہیں شامت ہے تو یہ ہے
پبلک میں ذرا ہاتھ ملا لیجئے مجھ سے
مرے ایمان کی قیمت ہے تو یہ ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں ڈالا چوری تو نہیں کی ہے
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
رہے گا عشقِ بت میں فرق دنیا سے دینی کا
اگر یہ سجدہ ہے کعبے کا وہ سجدہ ہے کچھ اور
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے
یہ زندہ جاوید ہے وہ مردہ زبان نہیں