خوشی ہے سب کو کہ آپریشن میں خوب نشتر یہ چل رہا ہے
کسی کو اس کی خبر نہیں ہے مریض کا دم نکل رہا ہے
اسی رنگ پر ہے قائم فلک وہی چال چل رہا ہے
شکستہ و منتشر ہے وہ کل جو آج سانچے میں ڈھل رہا ہے
یہ دیکھتے ہو جو کاسۂ سر غرور غفلت سے کل تھا مملو
یہی بدن ناز سے پلا تھا جو آج مٹی میں گل رہا ہے
سمجھ ہو جس کی بلیغ سمجھے ہو جس کی وسیع دیکھے
ابھی یہاں خاک بھی اڑے گی جہاں یہ قلزم ابل رہا ہے
کہاں کا شرقی کہاں کا غربی تمام دکھ سکھ ہے یہ مساوی
یہاں بھی اک بامراد خوش ہے وہاں بھی اک غم سے جل رہا ہے
عروج قومی زوال قومی خدا کی قدرت کے ہیں کرشمے
ہمیشہ رد و بدل کے اندر یہ امر پولٹیکل رہا ہے
مزہ ہے اسپیچ کا ڈنر میں خبر یہ چھپتی ہے پانیر میں
فلک کی گردش کے ساتھ ہی ساتھ کام یاروں کا چل رہا ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں ڈالا چوری تو نہیں کی ہے
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
رہے گا عشقِ بت میں فرق دنیا سے دینی کا
اگر یہ سجدہ ہے کعبے کا وہ سجدہ ہے کچھ اور
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے
یہ زندہ جاوید ہے وہ مردہ زبان نہیں