ختم کیا صبا نے رقص پہ نثار ہو چکی
جوش نشاط ہو چکا صوت ہزار ہو چکی
رنگ بنفشہ مٹ گیا سنبل تر نہیں رہا
صحن میں زینت نقش و نگار ہو چکی
مستی لالہ اب کہاں اس کا پیالہ اب کہاں
دور طرب گزر گیا آمد یار ہو چکی
رت وہ جو تھی بدل گئی آئی بس اور نکل گئی
تھی جو ہوا میں نکہت مشک تتار ہو چکی
اب تک اسی روش پہ ہے اکبرؔ مست و بے خبر
کہہ دے کوئی عزیز من فصل بہار ہو چکی
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں ڈالا چوری تو نہیں کی ہے
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
رہے گا عشقِ بت میں فرق دنیا سے دینی کا
اگر یہ سجدہ ہے کعبے کا وہ سجدہ ہے کچھ اور
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے
یہ زندہ جاوید ہے وہ مردہ زبان نہیں