جذبۂ نے مرے تاثیر دکھلائی تو ہے
گھنگھروؤں کی جانب در کچھ صدا آئی تو ہے
کے اظہار میں ہر چند رسوائی تو ہے
پر کروں کیا اب طبیعت آپ پر آئی تو ہے
آپ کے سر کی قسم میرے سوا کوئی نہیں
بے تکلف آئیے کمرے میں تنہائی تو ہے
جب کہا میں نے تڑپتا ہے بہت اب دل مرا
ہنس کے فرمایا تڑپتا ہوگا سودائی تو ہے
دیکھیے ہوتی ہے کب راہی سوئے ملک عدم
خانۂ تن سے ہماری روح گھبرائی تو ہے
دل دھڑکتا ہے مرا لوں بوسۂ رخ یا نہ لوں
نیند میں اس نے دلائی منہ سے سرکائی تو ہے
دیکھیے لب تک نہیں آتی گل عارض کی یاد
سیر گلشن سے طبیعت ہم نے بہلائی تو ہے
میں بلا میں کیوں پھنسوں دیوانہ بن کر اس کے ساتھ
دل کو وحشت ہو تو ہو کمبخت سودائی تو ہے
خاک میں دل کو ملایا جلوۂ رفتار سے
کیوں نہ ہو اے نوجواں اک شان رعنائی تو ہے
یوں مروت سے تمہارے سامنے چپ ہو رہیں
کل کے جلسوں کی مگر ہم نے خبر پائی تو ہے
بادۂ گل رنگ کا ساغر عنایت کر مجھے
ساقیا تاخیر کیا ہے اب گھٹا چھائی تو ہے
جس کی الفت پر بڑا دعویٰ تھا کل اکبرؔ تمہیں
آج ہم جا کر اسے دیکھ آئے ہرجائی تو ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں ڈالا چوری تو نہیں کی ہے
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
رہے گا عشقِ بت میں فرق دنیا سے دینی کا
اگر یہ سجدہ ہے کعبے کا وہ سجدہ ہے کچھ اور
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے
یہ زندہ جاوید ہے وہ مردہ زبان نہیں