ہوائے بھی ہے عنبر افشاں عروج بھی ہے مہ مبیں کا
نثار ہونے کی دو اجازت محل نہیں ہے نہیں نہیں کا
اگر ہو ذوق سجود پیدا ستارہ ہو اوج پر جبیں کا
نشان سجدہ زمین پر ہو تو فخر ہے وہ رخ زمیں کا
صبا بھی اس گل کے پاس آئی تو میرے کو ہوا یہ کھٹکا
کوئی شگوفہ نہ یہ کھلائے پیام لائی نہ ہو کہیں کا
نہ مہر و مہ پر مری نظر ہے نہ لالہ و گل کی کچھ خبر ہے
فروغ دل کے لیے ہے کافی تصور اس روئے آتشیں کا
نہ علم فطرت میں تم ہو ماہر نہ ذوق طاعت ہے تم سے ظاہر
یہ بے اصولی بہت بری ہے تمہیں نہ رکھے گی یہ کہیں کا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں ڈالا چوری تو نہیں کی ہے
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
رہے گا عشقِ بت میں فرق دنیا سے دینی کا
اگر یہ سجدہ ہے کعبے کا وہ سجدہ ہے کچھ اور
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے
یہ زندہ جاوید ہے وہ مردہ زبان نہیں