حلقے نہیں ہیں زلف کے حلقے ہیں جال کے
ہاں اے شوق ذرا دیکھ بھال کے
پہنچے ہیں تا کمر جو ترے گیسوئے رسا
معنی یہ ہیں کمر بھی برابر ہے بال کے
بوس و کنار و وصل حسیناں ہے خوب شغل
کمتر بزرگ ہوں گے خلاف اس خیال کے
قامت سے تیرے صانع قدرت نے اے حسیں
دکھلا دیا ہے حشر کو سانچے میں ڈھال کے
شان دماغ کے جلوے سے یہ بڑھی
رکھتا ہے ہوش بھی قدم اپنے سنبھال کے
زینت مقدمہ ہے مصیبت کا دہر میں
سب شمع کو جلاتے ہیں سانچے میں ڈھال کے
ہستی کے حق کے سامنے کیا اصل این و آں
پتلے یہ سب ہیں آپ کے وہم و خیال کے
تلوار لے کے اٹھتا ہے ہر طالب فروغ
دور فلک میں ہیں یہ اشارے ہلال کے
پیچیدہ زندگی کے کرو تم مقدمے
دکھلا ہی دے گی موت نتیجہ نکال کے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں ڈالا چوری تو نہیں کی ہے
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
رہے گا عشقِ بت میں فرق دنیا سے دینی کا
اگر یہ سجدہ ہے کعبے کا وہ سجدہ ہے کچھ اور
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے
یہ زندہ جاوید ہے وہ مردہ زبان نہیں