حال میں سنا نہیں سکتا
لفظ معنیٰ کو پا نہیں سکتا
نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
ہوش عارف کی ہے یہی پہچان
کہ خودی میں سما نہیں سکتا
پونچھ سکتا ہے ہم نشیں آنسو
داغ دل کو مٹا نہیں سکتا
مجھ کو حیرت ہے اس کی قدرت پر
الم اس کو گھٹا نہیں سکتا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں ڈالا چوری تو نہیں کی ہے
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
رہے گا عشقِ بت میں فرق دنیا سے دینی کا
اگر یہ سجدہ ہے کعبے کا وہ سجدہ ہے کچھ اور
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے
یہ زندہ جاوید ہے وہ مردہ زبان نہیں