مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں
امیدیں اس قدر ٹوٹیں کہ اب پیدا نہیں ہوتیں
مری بیتابیاں بھی جزو ہیں اک میری ہستی کی
یہ ظاہر ہے کہ موجیں خارج از نہیں ہوتیں
وہی پریاں ہیں اب بھی راجا اندر کے اکھاڑے میں
مگر شہزادۂ گلفام پر شیدا نہیں ہوتیں
یہاں کی عورتوں کو علم کی پروا نہیں بے شک
مگر یہ شوہروں سے اپنے بے پروا نہیں ہوتیں
تعلق دل کا کیا باقی میں رکھوں بزم دنیا سے
وہ دل کش صورتیں اب انجمن آرا نہیں ہوتیں
ہوا ہوں اس قدر افسردہ رنگ باغ ہستی سے
ہوائیں فصل گل کی بھی نشاط افزا نہیں ہوتیں
قضا کے سامنے بے کار ہوتے ہیں حواس اکبرؔ
کھلی ہوتی ہیں گو آنکھیں مگر بینا نہیں ہوتیں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں ڈالا چوری تو نہیں کی ہے
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
رہے گا عشقِ بت میں فرق دنیا سے دینی کا
اگر یہ سجدہ ہے کعبے کا وہ سجدہ ہے کچھ اور
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے
یہ زندہ جاوید ہے وہ مردہ زبان نہیں