تو موجود ہے دل میں دوا ہو یا نہ ہو
بندگی حالت سے ظاہر ہے ہو یا نہ ہو
جھومتی ہے شاخ گل کھلتے ہیں غنچے دم بہ دم
با اثر گلشن میں تحریک صبا ہو یا نہ ہو
وجد میں لاتے ہیں مجھ کو بلبلوں کے زمزمے
آپ کے نزدیک با معنی صدا ہو یا نہ ہو
کر دیا ہے زندگی نے بزم ہستی میں شریک
اس کا کچھ مقصود کوئی مدعا ہو یا نہ ہو
کیوں سول سرجن کا آنا روکتا ہے ہم نشیں
اس میں ہے اک بات آنر کی شفا ہو یا نہ ہو
مولوی صاحب نہ چھوڑیں گے خدا گو بخش دے
گھیر ہی لیں گے پولس والے سزا ہو یا نہ ہو
ممبری سے آپ پر تو وارنش ہو جائے گی
قوم کی حالت میں کچھ اس سے جلا ہو یا نہ ہو
معترض کیوں ہو اگر سمجھے تمہیں صیاد دل
ایسے گیسو ہوں تو شبہ دام کا ہو یا نہ ہو
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکہ تو نہیں ڈالا چوری تو نہیں کی ہے
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
بازار سے گزرا ہوں خریدار نہیں ہوں
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا
رہے گا عشقِ بت میں فرق دنیا سے دینی کا
اگر یہ سجدہ ہے کعبے کا وہ سجدہ ہے کچھ اور
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے
یہ زندہ جاوید ہے وہ مردہ زبان نہیں